ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ہوناور کے ٹونکا میں تجارتی بندرگاہ کا تعمیراتی کام : یلاپور میں وزیر شیورام ہیبار کی صدارت میں ماہی گیروں اورافسران کی میٹنگ

ہوناور کے ٹونکا میں تجارتی بندرگاہ کا تعمیراتی کام : یلاپور میں وزیر شیورام ہیبار کی صدارت میں ماہی گیروں اورافسران کی میٹنگ

Sun, 27 Jun 2021 19:57:21    S.O. News Service

یلاپور:27؍جون(ایس اؤ نیوز)ہوناور کے ٹونکا میں تجارتی بندرگاہ کے مجوزہ تعمیراتی منصوبے سے روایتی ماہی گیروں کو کوئی نقصان ہونےوالا نہیں ہے۔ ماہی گیروں کے خاندانوں کو سڑک پر نہیں لایاجائےگا۔ اگلے مرحلےکی میٹنگ  ٹونکا میں ہی  منعقد کرتےہوئے منصوبے کے متعلق فیصلہ لیاجائے گا۔ اترکنڑا ضلع کے نگراں کار وزیر شیورام ہیبار نے ان خیالات کااظہار کیا۔

ٹونکا میں تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کو لے کر چل رہے تنازعہ  کے متعلق  یلاپور  میں ماہی گیروں اور افسران کے ساتھ منعقدہ طویل میٹنگ میں وہ حکومت کی جانب سے اپنی بات رکھ رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ سال 2009میں منظور شدہ  منصوبے کی تعمیر کئی وجوہات کی بنا پر اب شروع ہوئی ہے۔ حکومت کا ارادہ ماہی گیروں کو پریشان کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ  اترکنڑا میں کئی ایک منصوبہ جات سے متاثر ہونے والوں کے حقوق کی حفاظت کرنے میں ہم  کامیاب نہیں ہوئے ہیں، لیکن انہوں نے ماہی گیروں سے کہاکہ منصوبے کو رد کرنےکے بجائے آپ کو سہولت دینے والے متبادل آراء پر سوچ بچار کریں اور ہمیں مشورہ دیں ، انہوں نے یقین دلایا کہ آج ہونے والی بات چیت پر آپ(ماہی گیر) قائم نہیں بھی  رہے تو  مسئلہ نہیں ہے، لیکن  ہم اپنی بات پر قائم رہیں گے۔

ماہی گیروں کی غیر موجودگی میں منصوبے کی تشکیل بے معنی :موصوف وزیر کی بات پر وضاحت کرتےہوئے ماہی گیر لیڈران نے کہاکہ وزیر صاحب کو جائے وقوع  پر پہنچ کر زمینی حقائق کا معائنہ کرنا چاہئے پھر  منصوبے کو جاری رکھنے کے متعلق  بات کرنی چاہئے۔ ماہی گیر قومی اسوسی ایشن کے ریاستی کنوینر  چندرکانت کوچریکر نے شکایتی انداز میں  کہا کہ مقامی لوگوں کو اعتماد میں لئے بغیر منصوبے کو منظوری دی گئی ہے، عدالتی حکم ہونے کے باوجود اس کی کمیوں اور خامیوں کو استعمال کرتے ہوئے مہینوں سے جاری لاک ڈاؤن کے دوران  ماہی گیروں کے گھروں کو  منہدم کیا گیا ہے۔

کوچریکر نے کہا کہ    ہم ترقی کے مخالف نہیں ہیں، اگر آپ تحریری طور پر ہمیں اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ  ماہی گیروں کے خاندان سڑک پر نہیں آئیں گے  ان کی زندگی اجیرن نہیں ہوگی تو ہم منصوبے کا استقبال کریں گے۔ لیکن  تعجب کی بات یہ ہے کہ  ہم نے حکومت کو جو  خط لکھ کر اپیل کی تھی کہ ہمیں اس بات کا یقین دلایاجائے  کہ  بندرگاہ کی  تعمیر سے ماہی گیروں کو کوئی پریشانی یا تکلیف نہیں ہوگی۔ اُس خط کا ہمیں  کوئی  جواب  موصول نہیں ہوا۔  کوچریکر نے سوال کیا کہ   اگر ماہی گیروں کو کوئی پریشانی ہونے والی  نہیں ہے تو پھر ہمیں اندھیرےمیں رکھ کر منصوبے کو تشکیل  کیوں دیا جارہا ہے ؟

ہماری نعشوں پر منصوبے کو نافذ کرنا ہوگا:ہوناور بوٹ مالکان سنگھا کے سکریٹری نے میٹنگ میں اپنی بات رکھتےہوئے کہاکہ ہم سے کہاجارہاہے کہ منصوبے کو رد کرنےکی بات نہ کریں تو پھر ہمیں بات چیت کے لئے کیوں بلا یا گیا ہے۔ اگر اس طریقہ کار کو اپناتےہوئے بندرگاہ کی تعمیر کرنی ہے تو سوال پیدا ہوتاہے کہ ماہی گیروں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اُس وقت کے حالات کچھ اور تھے اور  اب حالات بہت بدل گئےہیں۔ منصوبے پر عمل آوری سےہزاروں خاندان سڑک پر آجائیں گے۔ اگر منصوبے کو نافذ کرنا ہی ہے تو ہماری نعشوں پر کرنا ہوگا۔

محکمہ بندرگاہ کے ڈائرکٹر کیپٹن  سوامی نے پرائیویٹ تجارتی بندرگاہ کے عملی نقشے کے متعلق جانکاری دی ۔ ضلع سہکار  مچھلیاں فروخت کرنے والی  اسوسی ایشن   کے صدر راجو تانڈیل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

میٹنگ میں بھٹکل کے رکن اسمبلی سنیل نائک، ڈپٹی کمشنر  ملئی مہیلن ، ایس پی شیوپرکاش دیوراج، بھٹکل ڈی وائی ایس پی بیلی اپا، ہوناور کے انسپکٹر شری دھر،  ماہی گیر محکمہ کے معاون ڈائرکٹر ناگراج ، ہوناور کے تحصیلدار وویک شنئی  سمیت  ہوناور پورٹ کمپنی کے منصوبہ جات افسر ان موجود تھے۔


Share: